ہم سُخن HAM SUKHAN
معزز قارئین آداب!
اس بلاگ میں اردو ادب کی آبیاری کی کوشش کی گئی ہے۔ آپ کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کا شکریہ۔
ایڈمن
ہم سُخن
مؤلف: ایم اے ظفر
پیش لفظ
اس کتاب میں خاکسار نے اپنے شاگردوں کی ان تحریرات کو
جمع کیا ہے جو انھوں نے مختلف
خاکوں یا تصاویر کو دیکھ کر تخلیق کی ہیں۔ یہ کتاب "ہم سخن" اردو مضامین
اور کہانیوں کے اس خوبصورت امتزاج پر مشتمل ہے جو قارئین کو نہ صرف علم و ادب کی
دنیا میں داخل کرتی ہے بلکہ ان کے دلوں میں ایک نئی سوچ، تخیل اور احساس پیدا کرنے
کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ اس کتاب میں پیش کیے گئے مضامین جہاں قارئین کو مختلف
موضوعات پر گہرائی سے سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں، وہیں کہانیاں انسانی جذبات،
تعلقات، اور معاشرتی مسائل کی تصویر کشی کرتی ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں
کہ یہ کتاب نہ صرف طلبہ و طالبات بلکہ ہر عمر کے قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث بنے
گی اور ان کے ذوقِ مطالعہ کو مزید جِلا بخشے گی۔
اپنی
ہرسوچ کو ، یوں لفظوں میں
پرویا ہے
ہم سُخن نے نوکِ قلم، جیسے دل میں ڈبویاہے
بشکریہ اردو سوسائٹی
ایم اے ظفر
فروری 2025ء
فہرست
|
صفحہ نمبر |
عناوین |
نمبر شمار |
|
|
|
1 |
|
|
|
2 |
|
|
|
3 |
|
|
|
4 |
|
|
|
5 |
|
|
|
6 |
|
|
|
7 |
|
|
|
8 |
|
|
|
9 |
|
|
|
10 |
|
|
|
11 |
|
|
|
12 |
|
|
|
13 |
|
|
|
14 |
|
|
|
15 |
|
|
|
16 |
|
|
|
17 |
|
|
|
18 |
|
|
|
19 |
|
|
|
20 |
|
|
|
21 |
|
|
|
22 |
|
|
|
23 |
|
|
|
24 |
|
|
|
25 |
|
|
|
26 |
|
|
|
27 |
|
|
|
28 |
|
|
|
29 |
|
|
|
30 |
|
|
|
31 |
|
|
|
32 |
|
|
|
33 |
|
|
|
34 |
|
|
|
35 |
|
|
|
36 |
|
|
|
37 |
|
|
|
38 |
وقت کا پہیہ گھومتا ہے، اور زندگی کے لمحات انسان کو مختلف
مراحل سے گزار کر ایک ایسا مقام دکھاتے ہیں جہاں بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی داستان
ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ جاتی ہے۔ دیے گئے خاکے میں اس حقیقت کو بڑی خوبصورتی سے پیش
کیا گیا ہے کہ وقت کس طرح انسان کے رویوں کو پلٹ دیتا ہے۔
زندگی کے ابتدائی ایام میں، والدین بچوں کی پرورش میں اپنا سب
کچھ لگا دیتے ہیں۔ ان کے کھانے پینے، تعلیم اور تربیت کا ہر پہلو والدین کی قربانی
اور محبت کا مظہر ہوتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ، یہی بچے جوان ہو کر والدین کی خدمت کے
پابند ہو جاتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "
وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" (سورہ بنی اسرائیل: 23)
" اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔"
یہ آیت واضح طور پر یہ تعلیم دیتی ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ
سلوک اور محبت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، کیونکہ جس طرح انہوں نے ہمیں بچپن میں
پالا، بڑھاپے میں ان کی خدمت ہمارے لیے لازم ہے۔
کسی شاعر کا یہ شعر وقت کی بے ثباتی اور انسانی اعمال کے
انجام کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
ہمیں چاہیے کہ اپنے والدین اور بزرگوں کا دل سے خیال رکھیں،
کیونکہ وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے، اور جو آج بویا جائے گا، کل وہی کاٹا جائے گا۔
یہ تصویر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اپنے رویوں میں عاجزی،
محبت اور خدمت کو شامل کریں۔ زندگی کا یہ پہیہ ہمیں ضرور اسی جگہ واپس لے آتا ہے
جہاں ہم نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔
(مصنف: اسد چوہدری دہم اے)
یہ ضرب المثل ہماری زندگی کے ان تجربات کو بیان کرتی ہے جہاں
انسان اپنی غفلت اور سستی کے سبب مواقع کھو دیتا ہے، اور بعد میں صرف افسوس باقی
رہ جاتا ہے۔ یہ کہاوت ہمیں وقت کی اہمیت، پیشگی منصوبہ بندی، اور بروقت عمل کی
ضرورت کو اجاگر کرنے کا درس دیتی ہے۔
وقت کی اہمیت اور لاپرواہی کے نتائج
زندگی میں وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اگر وقت پر درست فیصلے
نہ کیے جائیں تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک کسان
جو اپنی فصل کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہیں کرتا، پرندے اس کی محنت کا صلہ لے
جاتے ہیں۔
یہ اصول دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ طالب علم
اگر امتحان سے پہلے محنت نہ کرے تو ناکامی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔ اسی طرح، ایک
تاجر اگر وقت پر کاروبار کے مواقع نہ پہچانے تو نقصان اٹھاتا ہے۔
دلائل
1. پیشگی منصوبہ بندی کی اہمیت
پیشگی منصوبہ بندی وہ بنیادی ہتھیار ہے جو ہمیں غیر ضروری
پریشانیوں سے بچا سکتا ہے۔ جو لوگ اپنی ذمہ داریوں کو وقت پر مکمل کرتے ہیں، وہ
بعد میں مشکلات کا شکار نہیں ہوتے۔
2. افسوس ناک انجام کا تذکرہ
تاریخ کے کئی واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ غفلت کا نتیجہ ہمیشہ
افسوسناک ہوتا ہے۔ مثلاً، سلطنتِ مغلیہ اپنی بے احتیاطیوں اور بروقت فیصلے نہ کرنے
کی وجہ سے زوال کا شکار ہوئی۔
3. انفرادی اور اجتماعی زندگی پر اثرات
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
زندگی کی حقیقت کو سمجھ لے اے دوست
یہ وہ بستی ہے جہاں وقت نہیں لوٹتا
"اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت" ہمیں
اس بات کا سبق دیتی ہے کہ وقت ضائع کرنے کے بجائے اس کی قدر کریں اور زندگی کے اہم
معاملات میں سستی اور غفلت سے گریز کریں۔ یہ کہاوت ہمیں محنت اور ذمہ داری کی راہ
دکھاتی ہے تاکہ ہم اپنے کل کو بہتر بنا سکیں اور پچھتاوے سے بچ سکیں۔
(مصنف: محب احمد دہم بی)
گزشتہ سال کی بات ہے کراچی کے علاقے کریم آباد میں ایک
شخص رہتا تھا۔ اس کا نام طارق تھا۔ طارق ایک ہوٹل کا مالک تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا
تھا۔ جس کا نام زین تھا۔ وہ اپنی سستی اور غیر ذمہ داری کے لیے پورے محلے میں
مشہور تھا۔ وہ ہمیشہ اہم کاموں کو ملتوی کرتا رہتا اور یہ سوچتا کہ وقت کی کمی
نہیں، کل کر لوں گا۔ چاہے اسکول کا ہوم ورک ہو، ابا کے ساتھ ہوٹل کا کام ہو،
یا دوستوں سے کیا گیا کوئی وعدہ، زین ہمیشہ دیر کر دیتا۔
ایک دن زین کو ایک عجیب خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی
گھڑی تیزی سے چل رہی ہے، اور اسی وقت سمندر کی لہریں بھی اٹھ رہی ہیں۔ زین ان
دونوں کا تعاقب کر رہا ہے لیکن ہر قدم پر وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ گھڑی کی سوئیاں
مزید تیزی سے گھومنے لگتی ہیں، اور لہریں اس کے قدموں کے نیچے سے نکل کر دور بہنے
لگتی ہیں۔ زین چیخ کر کہتا ہے:
"رکو! مجھے ایک موقع اور دو!"
لیکن گھڑی اور لہریں اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے
بڑھ جاتی ہیں۔
زین اچانک نیند سے جاگ اٹھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا
تھا، اور وہ سمجھ چکا تھا کہ خواب دراصل اسے ایک پیغام دے رہا تھا۔ اس نے فوراً
فیصلہ کیا کہ اب وہ وقت ضائع نہیں کرے گا اور اپنی زندگی کو بہتر بنائے گا۔
اگلی صبح زین نے اپنے تمام زیر التوا کاموں کی فہرست بنائی
اور ایک ایک کر کے انہیں مکمل کرنا شروع کیا۔ اس نے اپنے ابا اور اسکول کے اساتذہ
سے معافی مانگی۔ ہوٹل پر اس نے اپنے والد کا ہاتھ بٹانا شروع کیا اور اپنے دوستوں
سے کیے گئے وعدے پورے کیے۔ چند ہی دنوں میں، زین کی زندگی بدل گئی۔ گاؤں والےحیران
تھے کہ زین اتنا محنتی اور ذمہ دار کیسے بن گیا۔
نتیجہ: یہ
کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ اگر ہم موقع ضائع کریں گے
تو بعد میں پچھتانے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے
جو وقت کی قدر کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو وقت پر نبھاتے ہیں۔
(مصنف: مسرور احمد دہم اے)
مانسہرہ کے قریب ایک گاؤں میں گڈو نام کا لڑکا رہتا تھا جو ہر
کام کے لیے بہانے تراشتا تھا۔ اگر سکول میں ہوم ورک نہ کرتا، تو استاد کو کہتا کہ
کتابیں کھو گئیں۔ اگر دوستوں کے ساتھ کرکٹ کا مقابلہ ہارتا، تو کہتا کہ پچ خراب
تھی۔ اسی طرح، گڈو نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا اور
ہمیشہ دوسروں یا حالات پر الزام ڈالتا رہا۔
ایک دن گاؤں میں ناچنے کا مقابلہ ہوا۔ گڈو نے بڑھ چڑھ کر حصہ
لیا اور کہا کہ وہ سب کو مات دے گا۔ لیکن جب اسٹیج پر آیا، تو اس کے ناچنے کا
انداز نہایت مضحکہ خیز تھا۔ لوگ ہنسنے لگے اور ججوں نے فوراً ہی اسے نکال دیا۔ گڈو
نے فوراً کہا، "آنگن ٹیڑھا تھا، اس لیے میں ناچ نہیں سکا!"
گاؤں کے ایک دانا بزرگ، جو یہ سب دیکھ رہے تھے، اٹھے اور
بولے، "گڈو! آنگن ٹیڑھا نہیں تھا، بلکہ تمہیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا نہیں
آتا۔ اگر تم اپنی کمزوریوں پر کام کرو، تو کوئی بھی آنگن تمہارے راستے میں رکاوٹ
نہیں بنے گا۔"
یہ بات گڈو کے دل کو لگی۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ اسی طرح بہانے
بناتا رہا، تو کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ اس دن کے بعد گڈو نے اپنی زندگی بدلنے کا
عزم کر لیا۔ اس نے بہانے بنانا چھوڑ دیا اور ہر کام ایمانداری اور محنت سے کرنا
شروع کر دیا۔ چند سال بعد، وہ گاؤں کے سب سے قابل اور ہنر مند نوجوانوں میں شمار
ہونے لگا۔
نتیجہ:
زندگی میں کامیابی کے لیے اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا اور ان
سے سیکھنا ضروری ہے۔ بہانے بنانا ہمیں وقتی طور پر سکون دے سکتا ہے، لیکن یہ ہمارے
مستقبل کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اپنے عیبوں کو قبول کریں، ان پر
کام کریں، اور آگے بڑھیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں، ایک اکلوتا موبائل فون، جب پہلی بار گھر آیا تو سب کی
نظروں کا مرکز بن گیا۔ ایک دم مجھے لگا کہ جیسے میں کوئی "سیلیبرٹی"
ہوں۔ سب میری طرف ایسے دیکھتے جیسے میں کوئی قیمتی خزانہ ہوں۔ بس وہ دن اور آج کا
دن، میں گھر کے ہر فرد کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکا ہوں۔
صبح میری کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ سبھی اپنے اپنے کام
کا بہانہ بنا کر مجھے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امی کہتی ہیں، "بیٹا، ذرا
موبائل دینا۔ مجھے گروسری لسٹ دیکھنی ہے۔" جیسے ہی وہ واٹس ایپ کھولتی ہیں،
انہیں فوراً ہی "فیملی گروپ" کی پوسٹس دیکھنے کا خیال آ جاتا ہے، اور
پھر تو یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ گروسری کی لسٹ کہیں پیچھے رہ جاتی ہے،
اور میری بیٹری، واٹس ایپ میسجز کے بوجھ تلے دبی رہتی ہے۔
ابھی میں امی کے ہاتھ سے نکلا ہی ہوتا ہوں کہ ابا جی آ کر پکڑ
لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے، "ذرا خبروں کی ہیڈلائنز چیک کرنی ہیں۔"
لیکن پھر یوٹیوب پر کچھ "اہم" ویڈیوز دیکھنے لگتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو
دیکھتے دیکھتے جب وہ "طنز و مزاح" کی ویڈیوز پر پہنچ جاتے ہیں تو مجھے
بھی شک ہونے لگتا ہے کہ شاید خبروں کا بہانہ تو صرف موبائل پکڑنے کے لئے تھا!
جب شام میں بچے میری طرف آتے ہیں تو میری بیٹری ختم ہونے کے
قریب ہوتی ہے۔ بچوں کے ہاتھ میں آتے ہی مجھے لگتا ہے کہ میرے اوپر بجلی کا کرنٹ
لگایا گیا ہے! موبائل گیمز کا آغاز ہوتا ہے اور میرے دماغی پروسیسر کا امتحان شروع
ہو جاتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ گویا کہ میری سانسیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان
کے ہاتھوں میں میرا وجود اس قدر محصور ہو جاتا ہے کہ میں چارجنگ کی درخواست کرنے
کے قابل بھی نہیں رہتا۔
بس رات ہوتے ہی میری کچھ "چُھٹکارا" کی امید جاگتی
ہے کہ شاید میں کچھ دیر سکون سے رہ سکوں گا۔ مگر اس وقت ابو کو یاد آتا ہے کہ
"گھڑی میں الارم سیٹ" کرنا ہے، اور امی کو "رات کی دعا" سننی
ہے۔
یوں میں، ایک اکلوتا موبائل فون، ہر دن اس گھریلو جنگ کا حصہ
بن کر صبح سے رات تک تھک جاتا ہوں۔ میری
خواہش ہے کہ مجھے بھی کبھی چھٹی ملے، لیکن لگتا ہے اس گھر میں
میرے نصیب میں بس یہی غلامی ہے!
سفارش اور رشوت وہ دو بڑے معاشرتی مسائل ہیں جو کسی بھی قوم
کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہ دونوں برائیاں انصاف، اہلیت، اور قابلیت
کے اصولوں کو پامال کر کے معاشرے میں عدم مساوات اور ناانصافی کو فروغ دیتی ہیں۔
رشوت کا مطلب ہے غیر قانونی طور پر کسی کام کے لیے مالی یا
دیگر فوائد فراہم کرنا، جب کہ سفارش کسی کے ذاتی تعلقات یا اثر و رسوخ کا استعمال
کر کے اپنے مفاد کے لیے کسی کام کو کروانا ہے۔ یہ دونوں برائیاں نہ صرف اخلاقی
اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ سماجی و اقتصادی ترقی کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہیں۔
رشوت کے ذریعے نااہل لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں، جس
کے نتیجے میں ادارے کمزور ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، سفارش کے ذریعے میرٹ کو نظرانداز
کیا جاتا ہے، جو قابل افراد کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے۔ اس کا نتیجہ معاشرتی
بدامنی اور ترقی کی رفتار میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔
جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
رشوت و سفارش عدل انصاف کو پامال کریں
قوم کی ترقی کو روبہ زوال کریں
یہ ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان برائیوں کے خلاف آواز
اٹھائیں۔ عدالتی اور انتظامی نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ رشوت اور سفارش کا قلع
قمع ہو سکے۔ عوام کو شعور دینا اور اخلاقی تربیت فراہم کرنا بھی اس مسئلے کے حل کے
لیے نہایت اہم ہے۔
اگر ہم رشوت اور سفارش کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو
ہماری قوم ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم
انفرادی اور اجتماعی سطح پر دیانت داری اور انصاف کے اصولوں کو اپنائیں۔
دنیا کے اس وسیع منظرنامے پر جہاں ترقی اور خوشحالی کے قصے
سنائی دیتے ہیں، وہیں بھوک اور افلاس کی کہانیاں بھی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ایک
طرف لاکھوں انسان ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، تو دوسری جانب دولت مند طبقہ بے
حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھانے کو بے دریغ ضائع کر رہا ہے۔
یہ تضاد ہماری اجتماعی بے حسی اور غیر منصفانہ معاشرتی ڈھانچے
کی عکاسی کرتا ہے۔ امیر طبقہ دعوتوں اور تقاریب میں کھانے کے انبار لگاتا ہے، مگر
وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ نعمت ان لوگوں کی حسرت بن جاتی ہے جنہیں مہینوں پیٹ بھر
کر کھانے کو نہیں ملتا۔ وہی کھانا کوڑے دانوں میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے، جب کہ
بھوک کے مارے لوگ اسی کوڑے دان میں اپنی امیدیں تلاش کرتے ہیں۔
جیسا کہ شاعر نے کہا:
رزق کو ٹھکراؤ نہ یونہی کبھی اے مسند نشیں
کتنے ہی انسانوں کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں
یہ المیہ صرف انسانیت کی تذلیل ہی نہیں بلکہ قدرت کی نعمتوں
کی ناقدری بھی ہے۔ اگر کھانے کو ضائع کرنے کی بجائے ضرورت مندوں تک پہنچانے کا
نظام بنایا جائے تو بھوک کے مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
ہم سب کو بحیثیت ذمہ دار انسان اس پہلو پر غور کرنا چاہیے کہ
خوراک کی اہمیت کیا ہے اور اسے ضائع کرنے کے بجائے دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی کتنی
ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی نعمتوں میں دوسروں کو شریک کریں تو نہ صرف بھوک کا خاتمہ
ممکن ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور انسانیت کی اصل روح بھی قائم ہو سکتی ہے۔
دیے گئے خاکے میں معاشرتی ناانصافی کو بڑی خوبصورتی سے مزاحیہ
انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف طاقتور اور مضبوط پہلوان ہیں، جو اپنی دھونس
جمانے کے لیے تیار ہیں، اور دوسری طرف ایک نحیف و نزار شخص ہے، جو اس غیر منصفانہ
مقابلے کا حصہ بننے پر مجبور ہے۔ یہ تصویر ہمارے معاشرے کی حقیقت کی عکاسی کرتی
ہے، جہاں طاقتور ہمیشہ کمزور کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرتی انصاف صرف الفاظ نہیں
بلکہ عمل کا متقاضی ہے۔ حضور اکرم ﷺ
کا فرمان ہے: "قوی وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ قوی وہ ہے جو غصے
کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔"
(صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل طاقتور وہ ہے جو انصاف اور
اخلاق کو مقدم رکھے، نہ کہ وہ جو صرف اپنی جسمانی قوت کا مظاہرہ کرے۔
یہ خاکہ ہمیں ایک اور اہم سبق دیتا ہے: طاقتور افراد اور
اداروں کو اپنی حیثیت کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ کمزوروں کے حق میں آواز
اٹھانی چاہیے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
"ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا"
اس لیے ایک معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم انصاف کے پہلو کو مضبوط
کریں، طاقتور کو اس کے حد میں رکھیں، اور کمزور کو وہ حقوق دیں جو اس کا حق ہیں۔
انصاف کا پہیہ صرف اسی وقت گھوم سکتا ہے جب ہم سب مل کر معاشرتی مساوات کو
فروغ دیں۔
دیے گئے خاکے میں ہمارے معاشرتی نظام کا ایک اہم مسئلہ
اجاگر کیا گیا ہے: صحت کے شعبے میں تجارت کا عنصر۔ تصویر میں دوا ساز کمپنیاں
نہایت مزاحیہ انداز میں یہ حقیقت بیان کر رہی ہیں کہ وہ مریض کے علاج کے بجائے
اپنی منافع خوری کو ترجیح دیتی ہیں۔ مریض اپنی حالت زار کا ذکر کر رہا ہے، لیکن
جواب میں اُسے دوائی کو خریدنے کے علاوہ کوئی اور حل نہیں دیا جا رہا۔
یہ صورت حال ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو سامنے لاتی ہے
کہ صحت کا شعبہ، جو انسانیت کی خدمت کے لیے ہونا چاہیے، ایک منافع بخش کاروبار بن
چکا ہے۔ دوا ساز کمپنیاں اور نجی اسپتال عوام کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور
ضروری علاج و معالجے کو اتنا مہنگا کر دیتے ہیں کہ عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو
جاتا ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
"یہاں ہر شخص ہر لمحہ کما رہا ہے
کوئی دوائی سے، کوئی دعا سے کما رہا ہے"
خاکہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ صحت ایک بنیادی انسانی حق
ہے، جسے تجارت کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ حکومتوں اور اداروں کو چاہیے کہ وہ صحت
کے شعبے میں اصلاحات کریں تاکہ ہر فرد کو معیاری اور سستی طبی سہولیات فراہم ہوں۔
اس مسئلے کا حل تب ہی ممکن ہے جب انسانیت کو پیسوں پر فوقیت
دی جائے اور دوا ساز کمپنیاں مریض کو صرف "گاہک" سمجھنے کے بجائے ان کی
خدمت کو اپنا مقصد بنائیں۔ صحت کو تجارت نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر کام کیا جائے،
کیونکہ یہ انسانی زندگی اور
مستقبل کا مسئلہ ہے۔
ناجائز منافع خوری ہمارے معاشرتی نظام کی ایسی بیماری ہے جو
ہمدردی اور اخلاقیات کے وجود کو کھا جاتی ہے۔ یہ بیماری ان تاجروں میں پائی جاتی
ہے جو قیمتوں کو اس طرح بڑھاتے ہیں جیسے وہ اپنی دکانوں پر کوئی سونے کے سکے فروخت
کر رہے ہوں، حالانکہ حقیقت میں آلو اور پیاز بیچ رہے ہوتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ "دولت ہاتھ کا میل ہے،" لیکن ہمارے
منافع خور حضرات تو اسے صابن کے ساتھ دھونے کی بجائے، اسے بڑھانے کے نت نئے طریقے
ایجاد کر رہے ہیں۔ وہ پیاز کے تھیلے کو ایسی قیمت پر بیچتے ہیں کہ خریدار خود کو
نوبل انعام یافتہ محسوس کرے کہ اس نے اتنا مہنگا سودا کیا!
تصور کریں، ایک عام آدمی بازار میں جاتا ہے اور خریدار کے
چہرے پر وہی معصومیت ہوتی ہے جیسے کوئی بچہ کھلونوں کی دکان پر ہو۔ لیکن دکاندار
کے نرخ سن کر وہی خریدار اس معصومیت کو کھو کر ایک فلمی ولن جیسا نظر آنے لگتا ہے۔
اور بھلا کیوں نہ ہو؟ جب آٹے کی قیمت سن کر دل کا بلڈ پریشر اور دماغ کی پریشانی
بڑھ جائے تو معصومیت کہاں بچتی ہے!
دکاندار کہتے ہیں کہ "یہ مہنگائی ہماری مرضی سے نہیں
ہوتی۔" لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ منافع خوری انہی کی "مرضی" کی کہانی
ہے۔ وہ حالات کا فائدہ اٹھا کر عوام کی جیبیں خالی کرنے میں ماہر ہیں۔ اب تو کئی
پاکستانی منافع خور ڈالر کمانے امریکہ جانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ انھوں نے سن
لیا ہے کہ وہاں بھی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا کیا ہے۔
کسی شاعر نے شاید ان منافع خوروں کے لیے ہی کہا تھا:
"لٹتا ہے بے کسوں کا یہاں مال بار بار، اے اہلِ زر، حیا کا بھی کچھ پاس
کیجیے!"
اب وقت آ گیا ہے کہ ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات کیے
جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان منافع خوروں پر ایسی نظر رکھے جیسے یہ دکاندار گلاب
جامن بیچنے کی بجائے کوئی قومی راز فروخت کر رہے ہوں۔ اور عوام کو بھی اپنے حقوق
کے لیے
آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ یہ نظام ٹھیک ہو اور سب کو اپنے
حصے کا انصاف ملے۔
زندگی ایک عجیب تضاد کا نام ہے۔ ایک طرف دنیاوی زندگی کی چمک
دمک، شور شرابا، اور تیز رفتار وقت کا دباؤ ہے، اور دوسری طرف سکون، خاموشی، اور
معرفت کی وہ دنیا ہے جو کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ دیے گئے خاکے میں ایک
نوجوان دکھایا گیا ہے جو اپنے اردگرد کے مادی ماحول سے بے نیاز، ایک کتاب کی دنیا
میں گم ہے۔ یہ خاکہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی سکون اور روشنی کہاں سے حاصل
ہوتی ہے۔
شہر کی بلند و بالا عمارتیں، ٹریفک کا شور، اور مصنوعی چمک
دمک ایک ایسی زندگی کی نمائندگی کرتی ہیں جس میں بظاہر سب کچھ ہے لیکن درحقیقت یہ
روحانی طور پر خالی ہے۔ اسی کے برعکس، نوجوان کے ہاتھ میں کتاب ایک روشن چراغ کی
مانند ہے جو اسے اس مادی دنیا کی تاریکی سے نکال رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں
فرماتے ہیں:
"اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ" (پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا)۔
یہ آیت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ علم اور معرفت کا
راستہ ہمیں اللہ سے جوڑتا ہے اور ہماری روحانی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔
نوجوان کا یہ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سکون کی تلاش شور و غل
میں نہیں بلکہ خود شناسی اور علم کی گہرائی میں ہے۔
جیسے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: "چراغِ علم جلے، یوں ہر طرف ہو نور، نکالے تاریکی سے، عطا کرے شعور"
یہ خاکہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی کی روش کو
بدلیں اور علم و معرفت کے ذریعے اپنے دل و دماغ کو منور کریں۔ جیسے حدیث میں آیا
ہے: "علم حاصل کرنا
ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے"
(سنن ابن ماجہ)۔
لہذا، یہ خاکہ نہ صرف نوجوان کی کہانی بیان کرتا ہے بلکہ
ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ حقیقی روشنی کتاب کی دنیا میں ہے اور یہی روشنی ہمیں
دنیاوی تاریکی سے نجات دلا سکتی ہے۔
رمضان کا مہینہ آیا تو حاجی صاحب ہمیشہ کی طرح خیرات کرنے کے
لیے بازار گئے۔ وہاں انہوں نے ایک پھل فروش سے ٹھیلا بھر پھل خریدنے کی کوشش کی،
لیکن قیمت سن کر ان کا دماغ چکرا گیا۔ حاجی صاحب کو احساس ہوا کہ یہ صرف ان کے
ساتھ نہیں، بلکہ پورے شہر کے غریب عوام کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔
حاجی صاحب نے محلے کے لوگوں کو جمع کیا اور ایک پرجوش تقریر
کی۔ انہوں نے کہا، "اگر ہم اس ناجائز منافع خوری کے خلاف آواز نہ اٹھائیں، تو
یہ ظلم مزید بڑھتا جائے گا!" سب نے ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا، اور وہ لوگ
بازار میں جمع ہو گئے۔
پھل فروشوں کے سامنے عوام نے احتجاج شروع کیا۔ پہلے تو پھل
فروش ہنستے رہے، لیکن جب لوگوں نے ان کے ٹھیلوں کو گھیر لیا اور "ظالم تاجروں
مردہ باد!" کے نعرے لگائے، تو ان کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ احتجاج شدت
اختیار کر گیا، اور کچھ نوجوانوں نے غصے میں ٹھیلوں کو الٹنا شروع کر دیا۔
یہ صورتحال دیکھ کر بازار کے تاجروں نے پولیس کو بلا لیا۔
پولیس نے آتے ہی مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، لیکن حاجی صاحب کی قیادت میں
لوگ ڈٹے رہے۔ پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ کئی لوگ زخمی ہو گئے، اور حاجی
صاحب خود بھی زخمی ہو کر زمین پر گر پڑے۔ لیکن ان کی آواز گونجتی رہی:
"یہ جنگ ہم جیتیں گے! ظالموں کو حساب دینا ہوگا!"
پولیس کی سختی کے باوجود احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
میڈیا کے کیمرے یہ منظر ریکارڈ کر رہے تھے، اور پورے ملک میں یہ خبر جنگل کی آگ کی
طرح پھیل گئی۔ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر مظاہرے میں شامل ہونے لگے۔
بالآخر حکومت نے عوامی دباؤ کے تحت نوٹس لیا۔ اعلیٰ حکام نے
اعلان کیا کہ ناجائز منافع خوری کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ کئی پھل فروشوں
اور تاجروں کو گرفتار کیا گیا، اور رمضان کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو
سختی سے کنٹرول کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
سبق:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کے خلاف جدوجہد آسان نہیں،
لیکن اگر ہم جرات اور اتحاد کے ساتھ کھڑے ہوں، تو بڑے سے بڑا نظام بھی ہل سکتا ہے۔
خاکہ نمبر:13
رمضان کا مہینہ تھا، اور مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر
رکھا تھا۔ ایک دن ایک عام شہری، رشید، جو ہر مہینے بمشکل اپنے گھر کا خرچہ پورا
کرتا تھا، بازار سے واپس آیا تو سخت پریشان تھا۔ اس نے دیکھا کہ مہنگائی کی وجہ سے
اس کے بچے بھی بھوکے رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
رشید نے فیصلہ کیا کہ وہ اس معاملے کی جڑ تک پہنچے گا۔ اگلے
دن وہ تھانے گیا اور پولیس کے ایک سپاہی سے پوچھا:
"اس مہنگائی میں آپ لوگ اتنے شاندار صحت مند کیسے ہیں؟
کیا راز ہے؟"
سپاہی نے پہلے تو کچھ نہ کہا، لیکن رشید کی بار بار کی پوچھ
گچھ نے اسے جھنجھوڑ دیا۔
رشید نے اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے کہا، "یہ مہنگائی
قدرتی نہیں لگتی، یہ کہیں نہ کہیں کسی بڑی سازش کا حصہ ہے، اور شاید آپ لوگ اس کا
حصہ ہیں!"
سپاہی غصے میں آ گیا اور رشید کو تھانے سے نکل جانے کا حکم
دیا۔ لیکن رشید نے اس معاملے کو یہیں ختم نہیں کیا۔ وہ رات کے وقت تھانے کے قریب
چھپ کر بیٹھ گیا اور پولیس کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنا شروع کر دی۔
آدھی رات کو اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ پولیس کی مدد سے غیر
قانونی گوداموں سے ذخیرہ شدہ اشیاء نکال رہے ہیں اور انہیں دوسرے شہروں میں مہنگے
داموں فروخت کرنے بھیج رہے ہیں۔ رشید نے یہ منظر دیکھ کر چپکے سے اپنے موبائل سے
ویڈیو بنائی اور اپنے محلے والوں کو دکھائی۔
محلے کے لوگوں نے رشید کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اگلی رات
وہ سب تھانے کے باہر چھپ گئے۔ جیسے ہی پولیس اور منافع خوروں نے دوبارہ وہی عمل
دہرانا چاہا، لوگوں نے انہیں گھیر لیا۔ لیکن پولیس نے اپنی طاقت استعمال کی اور
لاٹھی چارج شروع کر دیا۔
رشید اور اس کے ساتھیوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے زخمی ہونے
کے باوجود احتجاج جاری رکھا۔ رشید نے ویڈیو میڈیا کو بھیج دی، اور کچھ ہی دیر میں
یہ خبر پورے ملک میں پھیل گئی۔ عوام میں غصے کی لہر دوڑ گئی، اور بڑے پیمانے پر
احتجاج شروع ہو گیا۔
سبق:ظلم اور سازش کے خلاف جدوجہد کرنا مشکل ضرور ہے، لیکن اگر
نیت اور حوصلہ بلند ہو تو انصاف ضرور جیتتا ہے۔
عنوان: "گدھا رکشہ: نئی سواری، نئی
کہانی"
یہ ایک عام سا دن تھا، لیکن معراج صاحب کے لیے کچھ خاص۔ وہ
صبح کے وقت دفتر جانے کے لیے ہمیشہ کی طرح رکشہ لینے نکلے۔ لیکن آج کا دن الگ تھا
کیونکہ رکشے والے نے انہیں حیران کر دیا۔
معراج صاحب نے جیسے ہی رکشے میں قدم رکھا، انہوں نے دیکھا کہ رکشے
کا انجن بند ہے اور ایک گدھا آگے جتا ہوا ہے۔ رکشے والے نے مزے سے چائے کی چسکی
لیتے ہوئے کہا، "صاحب، گیس ختم ہو گئی ہے، لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،
یہ ماحول دوست گدھا رکشہ ہے۔"
معراج صاحب حیرانی سے بولے، "بھائی! یہ کیا ماجرا ہے؟ نہ
گیس، نہ رکشہ، بس گدھا!"
رکشے والے نے ہنستے ہوئے کہا، "صاحب، یہی تو کمال ہے! نہ
پیٹرول کی جھنجھٹ، نہ گیس کی لائن، بس گدھا اور ہم۔ سفر بھی ہو گا اور قدرتی وسائل
بھی محفوظ!"
معراج صاحب نے مجبوراً بیٹھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ دفتر کے
لیے دیر ہو رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی رکشہ چلنا شروع ہوا، گدھا رک گیا اور ضدی بچے کی
طرح آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ رکشے والے نے گدھے کے کان میں سرگوشی کی،
"چلو بھائی، ورنہ کرایہ کٹ جائے گا!" لیکن گدھا اپنی جگہ جم کر کھڑا
رہا۔
جب رکشہ دفتر کے قریب پہنچا، تو معراج صاحب نے غصے سے کہا،
"بھائی، یہ کیا مصیبت ہے؟ میں آئندہ کبھی تمہارے ساتھ سفر نہیں کروں گا!"
رکشے والے نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "صاحب، آپ کی مرضی،
لیکن یہ گدھا رکشہ ایک دن پوری دنیا کو حیران کرے گا!"
کہانی ختم ہوئی، لیکن معراج صاحب کے دل میں یہ یاد ہمیشہ کے
لیے بس گئی کہ کس طرح ایک گدھے نے ان کی زندگی کا سب سے انوکھا سفر ممکن بنایا۔
سبق: جب گیس اور پیٹرول ختم ہو جائیں، تو گدھے کی قدر کریں!
دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان تعلقات اور امداد کا لین دین
ایک عام بات ہے، لیکن جب امداد کسی قوم کی خودمختاری، آزادی، اور تشخص کو متاثر کرے،
تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے امریکی
امداد ہمیشہ ایک متنازعہ موضوع رہا ہے۔ یہ امداد بظاہر ترقی اور استحکام کے لیے دی
جاتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے موجود مقاصد قومی خودمختاری پر سمجھوتے کا
باعث بنتے ہیں۔
امداد یا سیاسی دباؤ؟
امریکی امداد کبھی معیشت کی بحالی کے نام پر دی جاتی ہے تو
کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے۔ لیکن اس امداد کے ساتھ ایسے مطالبات
منسلک ہوتے ہیں جو قومی مفادات کے برعکس ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اکثر ایسے فیصلے
کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو عوامی رائے یا قومی وقار کے خلاف ہوں۔ مثال کے طور
پر، اہم پالیسیز میں امریکہ کی ہدایات کا اثر، دفاعی حکمت عملی میں مداخلت، اور
بین الاقوامی معاملات میں امریکی مفادات کو فوقیت دینا، ان تمام عوامل نے پاکستان
کو کئی بار مشکل حالات سے دوچار کیا۔
معاشی انحصار اور خودمختاری کا خاتمہ
امریکی امداد کے ساتھ پاکستان کی معیشت پر ایسے قرضوں کا بوجھ
ڈالا گیا جو ملک کی خودمختاری کو محدود کر دیتے ہیں۔ امداد کا مقصد درحقیقت
پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا نہیں بلکہ اسے مستقل معاشی دباؤ میں رکھنا ہے۔
اس معاشی انحصار کی وجہ سے پاکستان اکثر ان منصوبوں کو ترک کرنے پر مجبور ہوتا ہے
جو قومی مفاد میں ہوں لیکن امریکی پالیسیز سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ثقافتی اور سماجی اثرات
امریکی امداد نہ صرف معاشی بلکہ سماجی سطح پر بھی غلامی کا
باعث بنتی ہے۔ امریکی ثقافت اور اقدار کا فروغ، تعلیمی نصاب میں غیرملکی نظریات کی
شمولیت، اور میڈیا کے ذریعے امریکی بیانیے کی ترویج، ان تمام پہلوؤں نے قومی تشخص
کو دھندلا دیا ہے۔ امداد کے ساتھ آنے والی ان شرائط نے پاکستانی سماج کو تقسیم کر
دیا ہے اور نوجوان نسل میں اپنی ثقافت اور تاریخ سے دوری پیدا کی ہے۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
مستقبل کی راہ
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکی امداد پر انحصار کم کرے
اور اپنی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرے۔ ہمیں خود انحصاری، قومی وسائل کے
بہتر استعمال، اور علاقائی تعاون پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چین، ترکی، اور دیگر
علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا اور اپنی پالیسیز کو قومی مفاد کے
مطابق ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نتیجہ
امریکی امداد وقتی فائدہ تو دیتی ہے، لیکن اس کی قیمت قومی
خودمختاری، آزادی، اور وقار کی قربانی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایک مضبوط
اور خودمختار پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے اور کسی بیرونی
طاقت کے دباؤ کو قبول نہ کرے۔ جب تک ہم اپنی معاشی اور سماجی پالیسیاں خود مختار
طریقے سے نہیں بنائیں گے، غلامی کا یہ سمجھوتہ ہمارے قومی تشخص کو مٹاتا رہے گا۔
دہشت گردی موجودہ دور کا ایک سنگین مسئلہ ہے جس نے دنیا بھر
کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ دہشت گرد نہ صرف جانی اور مالی نقصان پہنچاتے ہیں
بلکہ عوام میں خوف و ہراس بھی پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار رہا
ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ ان میں ایک اہم اقدام
موبائل فون سروس کی معطلی ہے، جو ہر قومی یا مذہبی تہوار کے موقع پر حفاظتی تدابیر
کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔
موبائل فون اور دہشتگردی
جدید ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کی زندگی آسان بنائی ہے، وہیں
دہشت گردوں کے لیے بھی سہولت فراہم کی ہے۔ موبائل فون کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو
ریموٹ کنٹرول سے چلانا، مشکوک پیغامات کا تبادلہ، اور منصوبہ بندی کرنا عام بات
ہے۔ موبائل فون سروس معطل کرنے کا مقصد ان دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنانا اور
عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
فوائد
موبائل فون سروس معطل کرنے سے دہشت گردوں کے درمیان رابطہ
منقطع ہو جاتا ہے، جس سے ان کی کاروائیاں محدود ہو جاتی ہیں۔ کئی بار حکام نے یہ
ثابت کیا ہے کہ بروقت سروس معطلی نے بڑے سانحات کو روکنے میں مدد فراہم کی۔ اس کے
علاوہ، عوام میں یہ پیغام جاتا ہے کہ حکومت ان کی حفاظت کے لیے متحرک ہے۔
چیلنجز اور نقصانات
موبائل فون سروس کی معطلی سے جہاں دہشت گردی کو قابو میں لانے
میں مدد ملتی ہے، وہیں اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ عوام کے لیے یہ سہولت زندگی
کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ سروس معطل ہونے سے عام لوگ، خاص طور پر بیمار افراد،
ہنگامی صورت حال میں ڈاکٹروں یا رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کر پاتے۔ کاروباری طبقے
کو بھی اس اقدام سے شدید نقصان ہوتا ہے، جبکہ یہ قدم عموماً عوام میں غیرضروری
پریشانی کا سبب بنتا ہے اور اس کے خلاف آوازیں بھی بلند ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ
حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ کہیں جان کی،
کہیں مال کی تو کہیں موبائل کی۔
یہ غازی، یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
یہ شعر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے لیے ہر قسم
کی قربانی دینا لازمی ہے۔
حل اور تجاویز
موبائل فون سروس کی معطلی ایک وقتی اقدام ہے۔ حکومت کو چاہیے
کہ وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع،
جاسوسی، اور عوامی تعاون کا سہارا لے۔ اس کے علاوہ، انٹرنیٹ پر بھی نگرانی بڑھا کر
مشکوک سرگرمیوں کو روکا جا سکتا ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ حکومتی اقدامات میں
تعاون کریں اور مشکوک افراد کی بروقت اطلاع دیں۔
نتیجہ
موبائل فون سروس معطل کرنا دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کا ایک
اہم ہتھیار ہے، لیکن اس کا متبادل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ عوام کو کم سے کم
مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ حکومت اور عوام کو مل کر اس جنگ میں حصہ لینا ہوگا تاکہ
ایک محفوظ اور پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے، جو معاشرے کی ترقی اور
کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ لیکن موجودہ دور میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تعلیمی
اخراجات نے اس حق کو صرف امراء تک محدود کر دیا ہے۔ اسکول کی فیسیں، کتابوں کی
قیمتیں، یونیفارم، اور دیگر اخراجات ایک عام شخص کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ ایسے
میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تعلیم واقعی ہر فرد کا حق ہے یا صرف امیر طبقے کی
عیاشی؟
تعلیم اور اخراجات کا مسئلہ
آج کے دور میں، ایک عام نجی اسکول میں داخلہ لینا بھی کسی
امتحان سے کم نہیں۔ فیسیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور کتابوں اور دیگر تعلیمی سامان
کی قیمتیں بھی حد سے زیادہ ہیں۔ ایک مزدور یا کم آمدنی والے والدین کے لیے یہ
اخراجات برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ غریب والدین اکثر یہ سوچنے پر
مجبور ہو جاتے ہیں کہ بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کسی کام پر لگا دیں تاکہ گھر
کے اخراجات پورے ہوں۔
امیر اور غریب کا فرق
یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ تعلیم بھی اب طبقاتی نظام کا شکار
ہو چکی ہے۔ امراء کے بچے مہنگے اسکولوں میں بہترین تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ
غریب بچوں کے لیے سرکاری اسکول بھی مشکلات سے بھرپور ہیں۔ اس صورتحال کو شاعر نے
کچھ اس طرح پیش کیا ہے: ہم سے کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے بےسبب ہوا غالب دشمن آسماں ہمارا
یہ شعر غریبوں کے ان خوابوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو وہ تعلیم
کے ذریعے پورے کرنا چاہتے ہیں، مگر حالات ان کے خلاف ہیں۔
حکومت اور معاشرتی ذمہ داری
نتیجہ
تعلیم کا خواب ہر بچے کا حق ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ
خواب صرف امراء تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت، ادارے، اور معاشرہ اگر مل کر کام
کریں، تو غریب طبقے کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک تعلیم
یافتہ قوم ہی ترقی کی ضمانت ہے، اور اس کے لیے ہر ممکن اقدام ضروری ہے۔ ورنہ وہ
وقت دور نہیں جب اسکولوں کے دروازے صرف امراء کے بچوں کے لیے کھلے ہوں گے، اور
غریب بچوں کے خواب دھندلا جائیں گے۔
پشاور شہر کی گلیوں میں صبح کا منظر کسی جنگی میدان سے کم
نہیں تھا۔ بچے، جو اپنی عمر کے لحاظ سے معصوم اور نازک ہونے چاہیے تھے، پیٹھ پر
پہاڑ جیسے بھاری بستے اٹھائے اسکول جانے کی کوشش میں تھے۔ یہ بستے اتنے وزنی تھے
کہ دیکھنے والے کو شک ہونے لگتا تھا کہ شاید یہ بچے اسکول نہیں، کسی مہم پر جا رہے
ہیں۔
علی، محلے کا شرارتی لڑکا، روزانہ اپنی بہن فاطمہ
کے بوجھل بستے کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوتا۔ "یہ کیا ہے، فاطمہ؟ اسکول جا
رہی ہو یا کسی ٹرک کی ڈلیوری دینے؟" علی مذاق کرتا۔ فاطمہ ایک گہری سانس لے
کر جواب دیتی، "یہ علم کا خزانہ ہے، بھائی!" علی ہنستے ہوئے کہتا،
"خزانہ تو نظر آتا ہے، مگر یہ علم کہاں ہے؟"
ایک دن علی نے فیصلہ کیا کہ وہ اس "وزن کی سازش" کا
راز معلوم کرے گا۔ وہ فاطمہ کے ساتھ اسکول چلا گیا۔ اسکول گیٹ پر منظر اور بھی دل
دہلا دینے والا تھا۔ بچے بستوں کے بوجھ سے جھکے ہوئے تھے، کچھ لڑکھڑا رہے تھے، اور
ایک بچہ تو بستے سمیت زمین پر گر گیا۔ علی کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔
اسی دوران اسکول کا چوکیدار بچوں کو "جلدی اندر
آنے" کا حکم دے رہا تھا، گویا وہ فوجی سپاہی ہوں۔ علی نے چوکیدار سے کہا،
"یہ بستے اتنے بھاری کیوں ہیں؟ بچوں کو پڑھائی کرانی ہے یا ویٹ لفٹنگ کا
مقابلہ کروانا ہے؟" چوکیدار ہنستے ہوئے بولا، "بھائی، یہ آج کل کا نصاب
ہے۔"
علی نے اسکول کے پرنسپل سے ملاقات کا ارادہ کیا۔ پرنسپل صاحب
اپنے دفتر میں بڑے سکون سے بیٹھے تھے، ایک طرف چائے کا کپ اور دوسری طرف کتابوں کا
ڈھیر۔ علی نے پوچھا، "سر، ان بچوں کے بستے اتنے بھاری کیوں ہیں؟" پرنسپل
صاحب نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ ضروری ہے۔ علم کی بنیاد کتابیں ہیں۔" علی
نے طنزیہ لہجے میں کہا، "مگر کتابیں پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں، اٹھانے کے لیے
نہیں،"!"
علی نے محلے کے والدین کو جمع کیا اور اسکول کے سامنے احتجاج
کا منصوبہ بنایا۔ احتجاج شروع ہوتے ہی پولیس آ گئی۔ ایکشن شروع ہو چکا تھا۔ پولیس
نے لاٹھی چارج کیا، علی نے ایک بچے کے بستے کو "ڈھال" کے طور پر استعمال
کیا، اور نعرے بلند ہونے لگے، "چھوٹے بستے، ہلکے بستے!"
پرنسپل صاحب نے مجبور ہو کر والدین سے مذاکرات کیے۔ علی نے
کہا، "یہ بستے بچوں کے لیے نہیں، گدھوں کے لیے ہیں۔ کم از کم کتابوں کو نصاب
کے مطابق رکھیں۔" پرنسپل صاحب نے بستوں کا وزن کم کرنے کا وعدہ کیا، اور نصاب
میں تبدیلی کی گئی۔
آج بھی بچے اسکول جاتے ہیں، مگر ان کے بستے ہلکے اور دماغ
بھاری ہو چکے ہیں۔ علی محلے میں مشہور ہو گیا، اور والدین اسے مسیحا کہنے لگے۔ وہ
اکثر ہنستے ہوئے کہتا،
علم کی روشنی کا دعویٰ تو سب نے کیا،
بچوں پر بوجھ ڈال کر انہیں اندھا کر دیا
مضمون بعنوان: جعلی ڈگریاں، خواب اور حقیقت
پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ سے کسی نہ کسی بحران کا شکار
رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں جعلی ڈگریوں اور جعلی تعلیمی اداروں کا مسئلہ ایک
خطرناک رخ اختیار کر چکا ہے۔ وہ ادارے جو علم کی روشنی بانٹنے کے لیے بنائے گئے
تھے، آج کچھ افراد کے لیے محض ایک کاروبار بن چکے ہیں۔
جعلی ڈگریوں کا کاروبار
یہ جعلی تعلیمی ادارے ایسے ہیں جیسے وہ جادوگر ہوں جو محض چند
ہزار روپے میں کامیابی کے خواب بیچتے ہیں۔ نہ طلبہ کا داخلہ، نہ کلاسز، نہ
امتحانات، اور نہ ہی کوئی قابلیت! صرف ایک "ڈگری" جو کاغذ پر تو اصلی
لگتی ہے، لیکن حقیقت میں ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ دھوکہ
دہی نہایت کھلے عام ہو رہی ہے اور پکڑنے والا کوئی نہیں۔
معاشرے پر اثرات
جعلی ڈگریوں نے نہ صرف ہمارے تعلیمی معیار کو تباہ کیا ہے
بلکہ معاشرے میں عدم اعتماد بھی پیدا کیا ہے۔ ایسے ڈاکٹر، انجینئر، اور اساتذہ
سامنے آتے ہیں جو اپنے شعبے میں مہارت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا اداروں
اور نظام پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کئی بار آوازیں اٹھائی گئیں، لیکن
عملی اقدامات کی شدید کمی ہے۔ انتظامیہ کی غفلت اور قوانین کے نفاذ میں ناکامی نے
ان جعلی اداروں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا ہے۔
کسی شاعر کا یہ شعر ان حالات کی عکاسی کرتا ہے:
یہاں علم نہیں، بس کاغذ کا چرچا ہے،
ڈگری ہاتھ میں، بس خالی دماغ کا نقشہ ہے!
تجاویز
اختتام
تعلیم کسی بھی قوم کا ستون ہے، اور اس ستون کو مضبوط بنانا
ہماری ذمہ داری ہے۔ جعلی ڈگریاں نہ صرف ہمارے نظام کی کمزوری ظاہر کرتی ہیں بلکہ
ہماری ترقی میں رکاوٹ بھی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم جعلی تعلیم کے اس دھندے کو
ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں تاکہ پاکستان کی نسل نو ایک روشن مستقبل کی امید کر سکے۔
عید مسلمانوں کے لیے خوشی، محبت، اور سخاوت کا پیغام لے کر
آتی ہے۔ یہ دن عبادت، شکر گزاری، اور معاشرتی ہم آہنگی کا موقع ہوتا ہے۔ تاہم،
ہمارے معاشرے میں منافع خور اور مہنگائی کی بلا عوام کو ان خوشیوں سے محروم کر
دیتی ہے۔ خاکے میں دو کردار، "منافع خور" اور "مہنگائی"، عوام
کو نچوڑتے دکھائے گئے ہیں۔ ان کے درمیان عید کی مبارک باد کا تبادلہ اس بات کی
عکاسی کرتا ہے کہ یہ دونوں کس طرح عوام کی مشکلات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عید کے قریب ضروری اشیاء کی قیمتیں
دوگنی یا تین گنی ہو جاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 2024 کے دوران عید
کے موقع پر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 25 سے 40 فیصد اضافہ ہوا، جس سے متوسط
طبقے کے لیے بنیادی ضروریات کا حصول مشکل ہو گیا۔ گوشت، پھل، کپڑے، اور دیگر ضروری
اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عید کا تہوار مایوسی میں بدل جاتا ہے۔
قرآن کریم ہمیں انصاف اور اعتدال کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں:
"اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کرو
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو" (سورہ ہود: 85)۔
لیکن ہمارے سماج میں منافع خوروں کے لیے یہ آیت محض ایک کتابی
بات بن چکی ہے۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:
"جو شخص ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، وہ گناہ
گار ہے" (مسلم)۔
اس حدیث کی روشنی میں ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں غیر ضروری
اضافہ نہ صرف ایک سماجی برائی ہے بلکہ ایک سنگین گناہ بھی ہے۔
عوام کی بے بسی کو دیکھتے ہوئے شاعر نے کہا:
"یہ کیسی عید ہے، یہ کیسا سماں،
یہاں خوشی ہے فقط خواص کا بیاں۔"
آئیے اس عید پر عہد کریں کہ ہم انصاف، اعتدال، اور سخاوت کے
اصولوں پر عمل کریں گے تاکہ ہر شخص عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکے۔
پاکستان کو جمہوری ملک کے طور پر قائم ہوئے 75 سال سے زائد ہو
چکے ہیں، لیکن آج بھی "پاکستان میں جمہوریت نے کیا دیا؟" کا سوال ایک
گہرا اور تکلیف دہ سوال بن کر سامنے آتا ہے۔ خاکے میں دکھایا گیا منظر ہماری قوم
کی حقیقت کو بیان کرتا ہے، جہاں ہر شخص جمہوریت کے ثمرات کی جگہ شکایات کی طویل
فہرست پیش کر رہا ہے۔
"مہنگائی، بیروزگاری، اندرونی و بیرونی
قرضے، سیاسی انتشار، اور بدعنوانی" جیسے مسائل وہ چہرہ ہیں جو ہماری جمہوریت
نے عوام کو دکھایا ہے۔ عالمی بینک کے ایک جائزے کے مطابق، سال 2024ء میں پاکستان
کی غربت کی شرح 37.2 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔ دوسری طرف، کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے
مطابق پاکستان کا درجہ مسلسل گر رہا ہے۔ یہ صورتحال عوام کے اس گہرے احساس کی
عکاسی کرتی ہے کہ جمہوریت کے ثمرات ان تک پہنچنے کے بجائے چند خاص طبقوں تک محدود
ہو چکے ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور لوگوں کے معاملات میں انصاف کرو،
بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے" (سورہ نساء: 58)۔
یہ آیت ہمیں عدل و انصاف کی اہمیت بتاتی ہے، جو ایک حقیقی
جمہوریت کی بنیاد ہے۔ لیکن کیا ہماری جمہوریت نے ان اصولوں کو اپنایا ہے؟
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:
"سب سے بہتر حکمران وہ ہے جو اپنی رعایا
کے لیے نرمی اور انصاف سے پیش آئے" (ترمذی)۔
یہ حدیث ایک رہنما اصول کے طور پر ہمیں بتاتی ہے کہ حکمرانی
کا اصل مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے، جو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نظر نہیں
آتی۔
شاعر نے اس صورتِ حال پر یوں تبصرہ کیا ہے:
یہ کیسی جمہوریت، یہ کیسا نظام، کہ ہر
گلی میں مچا رکھا ہے کہرام
عنوان:سیاست دانوں کے وعدے، دعوے اور
حقیقت
قیام پاکستان سے لے کر اب تک جب بھی عام انتخابات کا انعقاد
کیا جاتا ہے تو ہر سیاسی جماعت اور اس کے نمائندے عوام کے سامنے بلند و بانگ دعوے
کرتے ہیں۔اپنے اپنے منشور میں عوام کی خدمت کے جذبات کا اظہار اور بے لوث قیادت کے
وعدے ایسے بیان کیے جاتے ہیں گویا وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ لیکن افسوس کہ یہ
وعدے عموماً جھوٹے خواب ثابت ہوتے ہیں۔ جیسے ہی یہ نمائندے اسمبلی کی کرسی پر
پہنچتے ہیں، عوام کے مسائل پسِ پشت ڈال کر اپنے مفادات کو اولین ترجیح دے دیتے
ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور وعدہ پورا کرو، بے شک وعدے کی بابت پوچھا جائے
گا" (سورہ الاسراء: 34)۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ وعدوں کی پاسداری نہایت اہم ہے، خاص
طور پر جب یہ وعدے کسی قوم یا ملت سے کیے جائیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں سیاست دان
وعدے صرف انتخابات جیتنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:
"قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا جس نے
لوگوں کو دھوکہ دیا" (مسلم)۔
یہ حدیث سیاست دانوں کے لیے ایک واضح سبق ہے، جو عوامی خدمت
کے نام پر اقتدار حاصل کرتے ہیں لیکن بعد میں ان کے مسائل حل کرنے سے غافل ہو جاتے
ہیں۔
"وعدے کیے تھے چراغ جلانے کے،
چراغ بجھائے تو روشنی کہاں ہو؟"
خصوصاََ 2008ء کے بعد سے عوامی توقعات اور ان کے حصول کے
درمیان ایک واضح خلا نظر آتا ہے۔ پاکستان کے ایک تجزیے کے مطابق، 70 فیصد عوام کا
اعتماد حکومت کی کارکردگی پر متزلزل ہے۔ روزگار، تعلیم، صحت، اور دیگر بنیادی
سہولیات کی فراہمی اب بھی ایک خواب ہے، کیونکہ حکمران اپنی تجوریاں بھرنے میں
مشغول رہتے ہیں۔
عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف وعدوں اور نعروں پر بھروسہ نہ
کریں، بلکہ ایسے رہنما منتخب کریں جن کا کردار صاف ہو اور جو عوام کے مسائل کے حل
کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ جمہوریت کے استحکام کا
انحصار صرف سیاست دانوں پر نہیں بلکہ عوام کی سیاسی بصیرت پر بھی ہے۔ یہی بصیرت
ہمیں ان دعووں کی حقیقت کو پہچاننے کا ہنر دے گی اور ملک کی ترقی کی راہ ہموار کرے
گی۔
یہ خبر پڑھ کر کہ جاپانی سائنسدانوں نے چاند سے بجلی حاصل
کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، میرے ذہن میں فوراً وہ منظر آیا جب ہم لوڈشیڈنگ کے عذاب
میں مبتلا، ہاتھ کے پنکھے سے ہوا لینے پر مجبور ہیں۔ خبر پڑھتے ہی میرے کانوں میں
آواز گونجی، "اور ہم آج تک کوئلے سے بجلی نہیں بنا سکے!" یہ فقرہ نہ صرف
ہماری بے بسی کا اظہار ہے بلکہ ہماری ترقی کے معیار پر ایک طنزیہ ضرب بھی۔
ہمارے ملک میں بجلی کی حالت کچھ یوں ہے کہ جیسے بجلی کسی کھیل
کے کھلاڑی ہو، جو کبھی میدان میں آتی ہے تو کبھی باہر۔ گرمیوں کے دنوں میں تو بجلی
یوں غائب ہوتی ہے جیسے گرمی سے گھبرا کر خود ہی چھپ گئی ہو۔ ایک طرف جاپانی
سائنسدان چاند کی روشنی سے بجلی بنانے کے منصوبے بنا رہے ہیں، اور دوسری طرف ہمارے
عوام کا خواب صرف اتنا ہے کہ گرمیوں میں رات کو سکون کی نیند مل جائے۔
ہمارے یہاں کا نظام یوں ہے کہ بجلی کے آنے اور جانے کے وقت کا
کوئی یقین نہیں۔ بجلی آ جائے تو حیرانی ہوتی ہے، اور اگر زیادہ دیر رک جائے تو خوف
ہوتا ہے کہ بل بھی زیادہ آئے گا۔ عوام کی حالت یہ ہے کہ گرمی سے ستائے ہوئے لوگ
پنکھے کے نیچے بیٹھ کر یہ سوچ رہے ہیں کہ "یہ پنکھا کب چلے گا؟"
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
"ہوا کے منتظر ہیں ہم، ہوا بھی روٹھ جاتی ہے،
یہ بجلی کی کہانی ہے، جو دل کو توڑ جاتی ہے!"
ہماری ترقی کی رفتار کچھ ایسی ہے جیسے اونٹ پہاڑ کے نیچے کھڑا
سوچ رہا ہو کہ چڑھنا ہے یا نہیں۔ جاپانی چاند سے بجلی حاصل کرنے کی تیاری کر رہے
ہیں، اور ہم زمینی تاریکی میں روشنی کے منتظر ہیں۔ شاید کبھی وہ دن آئے جب ہم بھی
چاند سے بجلی نہیں تو کم از کم زمین سے بجلی مستقل حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں۔
ایک گرم دوپہر تھی، سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زمین کو
جھلسا رہا تھا۔ شہریوں کا حال یہ تھا کہ نہ پنکھے چل رہے تھے، نہ لائٹ تھی، اور نہ
ہی کوئی امید کہ یہ عذاب جلد ختم ہوگا۔ ایسے میں چند جوشیلے نوجوانوں نے لوڈشیڈنگ
کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔
احتجاج کے لیے سب سے موزوں جگہ مرکزی چوراہا سمجھی گئی۔ وہاں
پہنچ کر کچھ لوگوں نے ٹائر جلائے، کچھ نے بینر اٹھائے اور باقی لوگوں نے نعرے
لگانے شروع کر دیے:
"بجلی دو، ورنہ حکومت چھوڑ دو!"
دوسری طرف یہ منظر کچھ شہریوں کے لیے اور بھی زیادہ اذیت ناک
تھا۔ دفتر سے واپسی پر موٹرسائیکل سوار اور کار والے بے چارے، اس احتجاج کے سبب
ٹریفک جام میں پھنس گئے تھے۔ ایک موٹرسائیکل سوار نے جھنجھلا کر کہا، "بھائی،
احتجاج کر رہے ہو تو راستہ تو چھوڑ دو! ہم بھی تو اسی لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے
ہیں!" دوسرا بولا، "یہ احتجاج سے زیادہ خود اذیت لگ رہا ہے۔"
حتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کو جگانے کے لیے یہ سب
ضروری ہے، مگر شہریوں کی حالت دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ ان کا غصہ حکومت پر کم اور
ان مظاہرین پر زیادہ تھا۔ پیچھے سے ایک شخص نے طنزیہ کہا، "یہ تو وہی بات
ہوئی: 'چلو ہم سب مل کر اپنے لیے مزید مشکل پیدا کرتے ہیں!' "
آخر کار، مظاہرین تھک گئے، ٹائر جل کر راکھ ہوگئے، اور نعرے
بازی مدھم پڑ گئی۔ مگر ٹریفک جام وہیں کا وہیں تھا، اور شہری ایک دوسرے کو کوسنے
دیتے ہوئے، احتجاج کی افادیت پر سوال اٹھا رہے تھے۔
نتیجہ:
یہ کہانی ہمارے اجتماعی طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے جہاں مسئلہ
حل کرنے کے بجائے، ہم خود مزید مسائل پیدا کر لیتے ہیں۔ شاید اگلی بار ہم احتجاج
سے پہلے سوچیں کہ راستہ بند کرنے کے بجائے کوئی مثبت حل نکالا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں لوڈشیڈنگ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر طبقۂ فکر کے
لیے اذیت کا باعث بن چکا ہے۔ گرمیوں کے دنوں میں جب سورج اپنی پوری آب و تاب سے
زمین کو جھلسا رہا ہوتا ہے، بجلی کی بندش عوام کو مزید بے سکون کر دیتی ہے۔ ایسے
میں عوام کی بے بسی اور حکومت کی بے حسی مل کر ایک ایسا سماجی انتشار پیدا کرتی ہے
جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
خاکے میں دکھائی گئی صورتحال ہماری معاشرتی حقیقت کی عکاسی
کرتی ہے۔ احتجاج کے دوران سڑکوں پر ٹائر جلانے اور راستے بند کرنے کو لوگ اپنے
مسائل کا حل سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ عمل مسئلے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
مظاہرین کا خیال ہوتا ہے کہ حکومت تک ان کی آواز پہنچے گی، لیکن اس احتجاج کا پہلا
شکار وہی شہری بن جاتے ہیں جو پہلے ہی لوڈشیڈنگ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ مظاہرے اکثر ٹریفک جام کا باعث بنتے ہیں۔ ایمبولینسیں
راستے میں پھنسی رہتی ہیں، دفاتر جانے والے لوگ وقت پر نہیں پہنچ پاتے، اور طلبہ
امتحانات کے لیے پریشان ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان مظاہروں سے بجلی کی
بندش ختم ہو جاتی ہے؟ یا پھر یہ عمل صرف عوام کی بے بسی کو مزید نمایاں کرتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ مسئلے کا حل احتجاج سے زیادہ مربوط منصوبہ
بندی اور حکومتی اقدامات میں ہے۔ بجلی کی پیداوار کے ذرائع بڑھانے، نظام کو جدید
بنانے، اور بجلی کی چوری روکنے جیسے اقدامات ہی اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ عوام
کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احتجاج تب ہی موثر ہو سکتا ہے جب وہ نظم و ضبط کے
ساتھ کیا جائے اور دوسروں کے لیے مشکلات کا باعث نہ بنے۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
"چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی
کی نہیں، یہ وقت
اور مصیبت، سدا کسی کی نہیں۔"
یہ مسئلہ وقتی ضرور ہے، مگر اس کے حل کے لیے حکومت اور عوام
کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوامی احتجاج اپنی جگہ اہم ہے، مگر اسے مثبت اور
تعمیری انداز میں ہونا چاہیے تاکہ مسائل حل ہوں، نہ کہ مزید پیچیدہ۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کراچی کے علاقے کینٹ میں ایک شخص رہتا
تھا۔ اس کا نام علی تھا۔ وہ ایک دفتر میں کام کرتا تھا۔ علی کی شادی کے دو سال بعد
اس کے گھر میں خوشیوں کا سماں تھا۔ اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔ میاں بیوی
دونوں اللہ کے اس انعام پر بے حد خوش تھے۔
علی دن رات ننھے حسان کے گرد گھومتا اور اس کی ہر ضرورت
کا خیال رکھتا۔ جب حسان نے پہلا قدم اٹھایا تو علی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو
تھے۔ وقت گزرتا گیا، اور وہ دن بھی آیا جب حسان نے علی کو "ابو" کہہ کر
پکارا۔ علی کے لیے یہ دنیا کی سب سے خوبصورت آواز تھی۔
علی کا معمول تھا کہ وہ شام کو حسان کو کھانا کھلاتا۔ کبھی
حسان ضد کرتا، تو کبھی ہنستے ہوئے کھانے کے بہانے بناتا۔ علی بڑی محبت سے چمچ پکڑ
کر اسے کھلاتا اور کہتا، "ایک نوالہ ابو کے لیے!"
سال گزرتے گئے، اور حسان جوان ہو گیا۔ علی کے چہرے پر بڑھاپے
کی جھریاں نمودار ہونے لگیں، لیکن وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کے لیے دعاگو رہتا۔ اب علی
کے ہاتھ کانپنے لگے تھے، اور چلنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ ایک دن حسان نے علی کے
ہاتھ سے چمچ لیتے ہوئے کہا، "ابو، اب میں آپ کو کھلاؤں گا، جیسے آپ نے بچپن
میں مجھے کھلایا تھا۔"
حسان نے علی کو اسی محبت اور خیال سے کھانا کھلایا جیسے علی
نے اسے بچپن میں کھلایا تھا۔ علی کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن یہ آنسو خوشی کے
تھے کہ اس کا بیٹا اس کے بڑھاپے میں اس کا سہارا بن گیا تھا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا پہیہ گھومتا ہے۔ والدین
ہمیں بچپن میں سنبھالتے ہیں، اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے والد بن کر بڑھاپے میں
ان کی خدمت کریں۔ کیونکہ وقت ہمیں وہی لوٹاتا ہے جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment